3 نومبر 2026 - 21:13
حصۂ دوئم آبنائے ہرمز کی طاقت ایران کے ہاتھ میں ہیں، الجزیرہ کے تجزیہ کار + ویڈیو

الجزیرہ کے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کاروائیاں جس قدر بڑھیں گی سب امریکہ کے مضبوط ارادے کے سامنے امریکہ کی ٹوٹ پھوٹ کی علامت بن کر ابھریں گی۔ امریکہ آبنائے ہرمز میں نئے حقائق کو نہیں بدل سکا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ الجزیرہ کے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کاروائیاں جس قدر بڑھیں گی سب امریکہ کے مضبوط ارادے کے سامنے امریکہ کی ٹوٹ پھوٹ کی علامت بن کر ابھریں گی۔ امریکہ آبنائے ہرمز میں نئے حقائق کو نہیں بدل سکا ہے۔

ویڈیو کی تفصیل:

دوسرا اور آخری حصہ:

میجر جنرل عبدالواحد! آپ ایران کی فوجی کاروائیاں کیسی رہیں اور اکتوبر میں ایسا کونسا نمایاں واقعہ رونما ہؤا کہ جس کی وجہ سے ایرانیوں کی نشانہ بازی کی سطح عروج کو پہنچی؟

مصری فوج کے سبکدوش میجر جنرل عبدالواحد: بالکل ایسا ہی ہے سلمیٰ؛ جہازوں کو نشانہ بنانا بہت شدید اور آشکار ہو گیا؛ ایک مہینے میں 35 جہاز نشانہ بنے، یعنی پوری جنگ کے دوران نشانہ بننے والے جہازوں کا 25 فیصہ حصہ۔

یہ واقعات بہت با معنی ہیں اور فیصلہ کن خصوصیات کے حامل ہیں۔

پہلی بات بڑی تعداد میں جہازوں کا نشانہ بننے کا واقعہ ہے

دوسری بات جنگی جغرافیے کی وسعت ہے اور جہاز آبنائے ہرمز سے باہر بھی نشانہ بنے ہیں؛ خلیج فارس کے اندر بھی اور بحیرہ عمان میں بھی۔

ایران اس اقدام کے ذریعے پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ کسی بھی نقطے تک رسائی رکھتا ہے اور پوری جغرافیائی وسعتوں میں جنگ کی لاگت، [دشمن پر] مسلط کر سکتا ہے۔

تیسرا اہم نکتہ ایران کے آپریشنل ٹیکٹکس میں تبدیلی ہے۔

ایران نے نئی تدبیروں کا استعمال شروع کر دیا ہے، جو بظاہر سادہ لگ سکتی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس گذشتہ ایام میں جنگ کا مسلط کردہ تجربہ ہے۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ جہازوں کو چسپان ہونے والی بارودی سرنگوں اور ڈرونز کے استعمال میں اضافہ ہوؤا جو براہ راست جہازوں کے انجنوں کو نشانہ بناتے ہیں؛ جس کا پیغام یہ ہے ایران درست ضربوں کے ساتھ جہازوں کی ایک یونٹ کو مفلوج کر سکتا ہے۔

میزائل لانچنگ بھی ایجنڈے پر رہی ہے۔

علاقے میں اہداف کی شناخت کے لئے ہلکی اور تیزرفتار کشتیوں، مچھیروں کی کشتیوں اور تجارتی جہازوں بھی استعمال ہوتے ہیں۔

لیکن بنیادی مقصد امریکی صدر کو گھٹن اور تعطل سے دوچار کرنا، اور درمیانی مدت کے انتخابات میں اس پر زیادہ سے زیادہ سیاسی دباؤ ڈالنا، ہے۔

دوسرا پیغام روایتی امریکی بیانیے کو باطل کرنا ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلا ہے اور اس سے محفوظ جہازرانی کا سلسلہ جاری ہے۔

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ ایران ثابت کرنا چاہتا ہے کہ یہ ملک میدان جنگ میں بدستور حاضر ہے اور فعال کردار ادا کر رہا ہے، اور خطے اور آبنائے ہرمز میں پہلے کی طرف مؤثر ہے۔

ایران ہاتھ باندھ کر نہیں بیٹھا؛ جنگ بندی آسودگی کا موقع نہیں تھی، بلکہ اس نے اپنی سابقہ کمیوں کی تلافی کر دی اور اچھی خاصی سطح پر ـ جو قابل توجہ ہے ـ غیر متناسب جنگ کی صلاحیتوں کو محفوظ رکھا ہے۔

مثال کے طور پر اس نے 70 فیصد میزائل اور تسدیدی اور میزائل صلاحیت کو محفوظ رکھا ہے اور میزائل لانچرز کی تعمیر نو کی ہے۔

اب ان کے پاس 400 میزائل لانچرز ہیں؛ یہ صلاحیت 28 فروری سے پہلے ایران کے پاس موجود تھی جسے اس نے بحال کر دیا ہے۔

ایران نے اپنی ڈرون صلاحیت کو زير زمین شہروں میں محفوظ کیا ہؤا ہے۔

ایران نے اپنی بحری بارودی سرنگوں کو ترقی دی ہے اور روس اور چین سمیت اپنے حامی ممالک کے ساتھ لاجیسٹک اور رسد کے راستے برقرار کر دیئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha